شنیلاروت کے خلاف پروپیگنڈا،،،،،،، بے نقاب
ہمارے یہ دوست لاہور ضلع میں پی ٹی آئی ونگ کی صدارت کے امیدوار تھے۔
اپریل 2021 کو جب لاہور جنوبی اور شمالی کے دونوں اطراف کی تنظیموں کے نوٹیفکشن جاری ہوئے۔ توان کو سئینر نائب صدر، نائب صدر اور ایڈیشنل سیکرٹری جنرل کے عہدوں پر فائز کیا گیا۔ مگران کو من پسند عہدے نہ ملےتو شنیلاروت ایک دم سے بُری اور کرپٹ ہوگئی۔اور قوم کے فنڈز کا درد ان کے دلوں میں اٹھا گیا۔
اپریل 2021 کے بعد متعدد بار ان کی ملاقاتیں شینلاروت سے ہوئیں۔ ان کے مطالبات پورے نہ ہونے پر انہوں نے باقاعدہ بلیک ملینگ شروع کر دی۔ کہ اگر ہمیں صدر ضلع لاہور مقرر نہ کیا گیا تو ہم ترقیاتی فنڈزمیں خرد برد کاکیس نیب میں لے جائیں گے ۔ ثبوت کے طور پر یہ گفتگو ملحاظ فرمائیں۔
ایک سال قبل آصف ٹاون کے ایک رہائشی کو انہوں نےبلیک میل کرنے کی کوشش کی اور معافی مانگ کر جان چھڑوائی ۔ ویڈیو حاضر ہے۔
شینلاروت کی طرف سے جاری ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں یہ
لوگ رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ سرکاری افسروں
اورٹھیکیداروں کو دھکمیاں لگاتے ہیں۔ لیبر کو حراساں کرتے ہیں ۔ جس کا نقصان مسیحی قوم کو ہو رہا ہے۔
زیر نظر ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یو سی ایچ ہسپتال میں جاری تعمیر کے کام میں بلاوجہ مداخلت کرتے ہوئے
پارٹی میں من مرضی عہد نے ملانے پریہ
لوگ غریب ترین اور پس مند مسیحی علاقوں کی ترقی میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ پارٹی ،
پارٹی لیڈرشپ اور سب سے بڑھ کر مسیحی قوم کے لیےسرکاری اداروں میں ذلت کا باعث
ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ ہم لوگ اپنوں ہی کی ٹانگیں کھینچتے ہیں۔
اگر قوم کا اتناہی درد ہے توہمت کر کے ایک ایک پیٹشن منشا سندھو، ظہیر عباس کھوکھو اور شفقت محمود پر بھی کریں کہ وہ آصف ٹاون ، یوحنا آباد اور ہنیری کے میں ترقیاتی فنڈز کیوں نہیں دے رہیے۔کک
ان کے سرغنہ کا کہنا ہے کہ رائیونڈکے حلقے میں 10 بھی مسیحی نہیں رہتے ان کی اطلاع کے لیے کہ اس حلقے میں صرف چرچ آف پاکستان رائیونڈ ڈایوسس کے ایک درجن سے . زیادہ گرجا گھر ہیں
رائیونڈ ڈایوسس کی ویب سائٹ کے لیے یہاں کلک کریں
۔ اس کے علاوہ بشمار کتھولک چرچز اور دیگرمنسٹریز کے چرچز ہیں۔ یہاں کے رہائشی انتہائی غریب اور پسماندہ ہیں۔
بہتر ہے کہ ہم اپنی لیڈرشپ کو مضبوط کریں مل جل کر پارٹی اور قوم کے لیے کچھ کر جائیں۔ جو عہدے ملیں ہیں انہیں پر رہ کر قوم کی خدمت کریں۔
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
اُس کی وہ جانے اسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے ۔

Comments
Post a Comment